HadeethEnc · 1.36.0
بنو اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے، انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔
02
Explanation
حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے سال منبر پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گھچا تھا، یہ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے بالوں کا مجموعہ تھا جو کہ ان کی کسی چوکیداری کرنے والے خادم کے ہاتھ میں تھا۔ فرمایا اے اہلِ مدینہ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ یہ انکار کے قبیل سے ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس بُرائی سے منع کرنے میں کوتاہی کی اور اس (ممنوع شے) کو تبدیل کرنے سے غفلت برتی۔پھر فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے بالوں کو گوند کر اس طرح کے بال بنانا شروع کردیا تو اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، وہ تمام لوگ ہلاک ہوگئے، اس لیے کہ وہ بُرائی کا اقرار کرتے تھے اور ساتھ ہی بُرائی کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملاتے تھے۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

