ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔
Explanation
Benefits
جسے دیکھنا حرام ہو، اگر اس پر اچانک بلا ارادہ نظر پڑ جائے، تو اسے دیکھتے رہنا حرام ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جانتے تھے کہ کسی اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہے۔ اس کى دلیل یہ ہے کہ جریر رضی اللہ عنہ نے بلا ارادہ نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا اس کا حکم بھی قصدا نظر ڈالنے ہی کا ہے؟
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت بندوں کے مصالح پر توجہ دیتی ہے۔ چوں کہ عورتوں کو دیکھنے کے نتیجے میں کئی دنیوی اور اخروی مفاسد لازم آتے ہيں، اس لیے اسے حرام قرار دے دیا۔
صحابہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رجوع کرتے اور جو باتیں معلوم نہيں ہوتیں، آپ سے پوچھ لیا کرتے تھے۔ لہذا عام لوگوں کو بھی علما سے رجوع کرنا چاہیے اور جو باتیں سمجھ میں نہ آئيں، پوچھ لینی چاہیے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

