آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ۔ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھاجس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو۔“ پھر نبی ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے(جلایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔
Explanation
پھر چیونٹیوں کی ایک بستی یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے گزرے، جسے جلا دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے کس نے جلایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے جلایا ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا ”آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب (یعنیاللہ) کے شایانِ شان ہے“۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
اس حدیث کے پیشِ نظر اگر آپ کا واسطہ چیونٹیوں سے پڑے، تو آپ انہیں آگ سے نہیں جلائیں گے۔ بلکہ کوئی ایسی چیز رکھ دیں جو انہیں بھگا دے جیسے گیسولین جو کہ ایک معروف مائع ایندھن ہے، جب آپ اس کو زمین پر انڈیل دیں گے تو وہ ان شاء اللہ بھاگ جائیں گی اور واپس نہیں لوٹیں گی۔ اگر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ کیٹناشک کا استعمال کیا جائے جو حتمی طور پر انہیں مار ڈالے یعنی چیونٹیوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی گزند کو دور کرنا ہے، ورنہ تو چیونٹیاں ان حشرات میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو تکلیف کا پہنچائے اور قتل کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو ان کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

