اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کا ملکِ شام کے کچھ عجمی کاشت کار لوگوں پر سے گزر ہوا، جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر تیل بہایا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ جواب دیا گیا کہ: خراج کی وجہ سے (یعنی ٹیکس نہ ادا کرنے کے جرم میں) انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جزیہ کی وجہ سے انہیں قید کیا گیا ہے۔ ہشام نےکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: ”اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں“، چناں چہ وہ امیر (گورنر) کے پاس گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی، تو گورنر نے ان کی بابت حکم دیا اور انہیں چھوڑ دیا گیا۔
Explanation
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قصور وار کو ایسی سزا نہ دی جائے جس سے وہ جرم سے باز آجائے اور شر سے رک جائے۔ بلکہ جو بات ممنوع ہے وہ عام سزا سے زائد سزا دینے کے متعلق ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

