بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔
Explanation
Benefits
شیطان مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں، عداوتیں، جنگیں اور فتنے برپا کرنے کى تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔
اسلام میں نماز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی محبت کو برقرار رکھتی ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔
دونوں شہادتوں کے بعد نماز دین کے شعائر میں سب سے زیادہ عظمت والى ہے اور اسی لیے اس حدیث میں مسلمانوں کو مصلِّیوں (نمازیوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
جزیرۂ عرب کی چند خصوصیات ایسی ہیں، جو دوسرے ممالک اور علاقوں کو حاصل نہیں ہیں۔
اگر کوئی کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں: "شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے۔" جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے کچھ حصوں میں بتوں کی پوجا ہو رہی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں بات اسلامی فتوحات اور اسلام کے اندر لوگوں کے گروہ در گروہ داخل ہونے کو دیکھ کر شیطان کے دل میں چھانے والی مایوسی کی ہو رہی ہے۔ دراصل یہ حدیث شیطان کے ظن اور توقع کی بات کر رہی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے برخلاف ہوا، جس کے پیچھے اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

