جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے۔"
تشریح
فوائد
مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن تین رات۔
موزوں پر مسح صرف چھوٹی نجاست کے لیے خاص ہے، بڑی نجاست کے لیے نہیں۔ بڑی نجاست کے وقت موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ اس حالت میں موزوں کو اتار کر پاؤں دھونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "ما سوا اس کے کہ اسے جنابت لاحق ہو جائے۔"
یہودیوں کی مخالفت کے طور پر جوتا اور موزہ پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب دونوں پاک ہوں اور اس سے مصلیوں کو اذیت یا مسجد گندی نہ ہوتی ہو۔ مثلا فرش والی مسجدوں میں جوتا پہن کر نماز نہيں پڑھی جائے گی۔
موزوں پر مسح دراصل اس امت کے لیے آسانی پیدا کرنے اور اس کا بوجھ ہلکا کرنے کی ایک صورت ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

