اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہيں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کی) شکایت لے کر (آپ ﷺکے پاس) آئے، تو نبی ﷺ ان سے فرمانےلگے: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر رسول اللہ ﷺ کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ وہ بیان کرتے ہیں: چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر اپنی فوقیت جتاتے ہوئے کہتی تھیں: تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی اور میری شادى اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔ ثابت رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے“۔ (الاحزاب: 37) زینب رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
Explanation
آپ ﷺ جس بات کو چھپا رہے تھے وہ آپ ﷺ کا زینب رضی اللہ عنہ سے نکاح کو ناپسند کرنا تھا اس خوف سے کہ لوگ یہ باتیں کریں گے کہ آپ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی۔
”انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اگر رسول اللہ ﷺ كو کسی بات کو چھپانا ہوتا تو اس بات کو چھپاتے۔“ یعنی اگر بفرض محال جو شرعاً ممنوع ہےٍ، وحی کی کسی بات کو چھپايا گيا ہوتا تويہی آیت ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شرعاً ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس آیت میں غور و تامل کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے دل میں آنے والے لوگوں کے خوف کے بارے میں بتلا رہا ہے، اور اللہ نے جو فرمایا آپ ﷺ نے وہ سب کچھ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیا حالانکہ اس میں آپ ﷺ پر کی گئی سرزنش کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص کذاب ہوتا ہے وہ ہر اس بات سے گریز کرتا ہے جس میں اس پر کچھ ملامت کا پہلو ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ اور اس طرح کی دیگر قرآنی آیات اسی قبیل سے ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں”۔ زینب رضی اللہ عنہا اس بات کو بہت اہمیت دیتی تھیں کہ ان کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور یہ ان کےلیے بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اور یہ کہ اس فضیلت کے اعتبار سے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کوئی بھی ان کی ہم پلہ نہیں۔ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں: ”تمہارا نکاح تو تمہارے اہل خانہ نے کیا ہے جب کہ میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے۔“
حدیث کے اس قدر حصے میں اس بات کا ثبوت وبيان ہے کہ ایمان والوں کے نزدیک اللہ کی ذات بلند وبرتر ہے۔ یہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے نزدیک مسلمہ بات ہے ماسوا ان لوگوں کے جن کی فطرت ہی بگڑ چکی ہو۔ ہراس مسلمان کے نزدیک جس کی فطرت میں کجی نہ ہو، یہ سمعی و عقلی اور فطری اعتبار سے ثابت شدہ صفات میں سے ہے۔ زینب رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ: ”میرا نکاح اللہ نے کرایا“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا﴾ کے ذریعے ان سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح کرانے کی ذمہ داری اللہ نے لی۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

