خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی، چنانچہ اللہ عزوجل نے ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا“ نازل فرمائی۔
Explanation
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں: الحمدُ للهِ الذي وَسِعَ سَمْعُه الأصواتَ“ یعنی تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہ کی ہوئی ہے، اس سے کوئی چیز فوت نہیں ہو سکتی اگر چہ پوشیدہ ہو۔ جب خولہ رضی اللہ عنہا آ کر آپ ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، تو دھیمی آواز میں بول رہی تھیں تاکہ قریب میں اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نہ سن لیں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر اس کی بات سنی اور مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (یہ آیت) اللہ تعالیٰ کے سننے کی صفت سے متصف ہونے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ یہ دین میں ایک بدیہی سا طے شدہ امر ہے، اس کا انکار صرف وہی شخص کرتا ہے جو راہِ ہدایت سے بھٹک چکا ہو۔
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ صحابہ کرام ظاہرِ نصوص یعنی جس کی طرف پہلی دفعہ سمجھ میں آتی ہے، پر ایمان لائے تھے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کو ان سے اور دوسرے مکلف لوگوں اور اپنے رسول سے مطلوب تھا۔ اس لیے کہ یہ جس پر وہ ایمان لائے تھے اور جس کا انہیں اعتقاد تھا اگر یہ غلط ہوتا تو (اللہ) ان کو اس پر قائم نہ رکھتا اور ان کے سامنے درست بات بیان کردی جاتی۔ جب کہ کسی سے بھی ان نصوص کے ظاہری مفہوم میں تاویل منقول نہیں، نہ ہی صحیح سند سے اور نہ ہی ضعیف سند سے، حالانکہ اس کے اسباب بکثرت موجود تھے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

