”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔
Explanation
Benefits
اہلِ حدیث اور طلب حدیث کے مقام ومرتبہ کا بیان۔
ان علما کی فضیلت جو استنباط اور فہم کی صلاحیت رکھتے ہيں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت، جنھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث سنی اور اسے ہم تک پہنچایا۔
مناوی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی حدیث کے لیے فقیہ ہونا شرط نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط یاد رکھنا ہے۔ فہم وتدبر کا کام فقیہ کا ہے۔
ابن عیینہ کہتے ہیں: طالب حدیث کے چہرے سے ہمیشہ تازگی جھلکتی ہے۔
محدثین کے یہاں حفظ کی دو قسمیں ہیں۔ حفظ قلب وصدر اور حفظ کتاب وسطر۔ دونوں اس حدیث میں کی گئی دعا میں شامل ہیں۔
لوگوں کی سمجھ مختلف ہوتی ہے۔ کیوں کہ بہت سے پہنچائے گئے لوگ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور بہت سے فقہ کے حامل لوگ فقیہ نہیں ہوا کرتے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

