جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی، جن میں نو لوگوں سے آپ نے بیعت لی اور ایک شخص سے بیعت نہیں لی۔ لہذا انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے نو لوگوں سے بیعت لی اور اسے چھوڑ دیا؟ آپ نے جواب دیا : "اس نے تعویذ باندھ رکھا ہے۔" چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا اور اسے کاٹ دیا۔ تب جاکر آپ نے اس سے بیعت لی اور فرمایا : "جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"
تشریح
فوائد
یہ عقیدہ رکھنا کہ تعویذ لٹکانا اذیت اور نظر بد سے بچنے کا سبب ہے، شرک اصغر ہے۔ جب کہ ان کو بذات خود نافع ماننا شرک اکبر ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

