افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#6760[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ کے مطابق ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرے لڑکے کو سنگسارکر دیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی۔ پھر اہل علم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کو (غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے زنا کی سزا میں) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو“۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار بھی کر لیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا۔
02

Explanation

یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔

Attribution

[متفق علیہ]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...