تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! امور اسلام تو بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں! آپ ﷺ نے فرمایا: "تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے؛ وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ سے جدا ہوتے وقت میں نے آخری بات یہ پوچھی کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور اللہ سے سب سے قریب کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "تمھاری موت اس حالت میں ہو کہ تمھاری زبان اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے۔"
تشریح
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔
فوائد
اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

