HadeethEnc · 1.36.0
نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔"
02
Explanation
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے۔ یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔
03
Benefits
جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائز نہيں ہے۔
اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
Attribution
[اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

