جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ام المؤمنين ام عبداللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ جب کہ مسلم کی روایت میں ہے: "جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نا قابل قبول ہے۔"
Explanation
Benefits
دین کی بنیاد رائے اور استحسان پر نہیں ہے۔ دین کی بنیاد اتباع رسول پر ہے۔
یہ حدیث دین کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔
بدعت ہر اس عقیدہ، قول یا عمل کو کہتے ہیں، جسے دین کے ایک جزء کے طور پر ایجاد کیا گیا ہو اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے زمانے میں موجود نہ رہا ہو۔
یہ حدیث اسلام کے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اعمال کے میزان کی طرح ہے۔ جس طرح جب کسی عمل کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول نہ ہو، تو کرنے والے کو اس کا کوئی ثواب نہيں ملتا، اسی طرح جو عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق نہ کیا جائے، اسے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث دین کے نام پر ایجاد کی جانے والی نئی نئی بدعات اور رونما ہونے والے منکرات کے بارے میں ایک قاعدہ اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
منع صرف ان نئی چیزوں سے کیا گیا ہے، جن کا تعلق دین سے ہو، ان سے نہيں، جن کا تعلق دنیا سے ہو۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

