’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔
Explanation
Benefits
باطل گروہ بندی سے خبردار کرنا، اور اس سے ایک بدبودار اور قبیح چیز کی طرح بچنا۔
ہر اس چیز کی ممانعت جو عداوت اور بغض پیدا کرے۔
امام نووی فرماتے ہیں: نبی ﷺ کا اسے ’جاہلیت کا دعویٰ‘ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے تھے، کیونکہ یہ جاہلیت کے اُن کاموں میں سے تھا جو وہ دنیاوی امور میں قبائلی تعلقات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے کرتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں لوگ اپنے حقوق اپنے رشتہ داروں اور قبیلوں کے زور پر حاصل کرتے تھے، پھر اسلام نے اس چیز کو باطل قرار دیا اور تمام مقدمات کا فیصلہ شرعی احکام کے مطابق کرنا لازم کیا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دوسرے پر زیادتی کرتا ہے تو قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اسے اس کی زیادتی کے تقاضے کا پابند کرتا ہے، جیسا کہ اسلامی قواعد میں ثابت ہے۔
سندھی کہتے ہیں: اس سے واضح ہوا کہ کسی کی مدد محض اس لیے کرنا کہ وہ اپنے قبیلے کا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کا طریقہ تھا، باطل ہے۔ لہٰذا اس کا کوئی جواز نہیں کہ ہر شخص اپنے قبیلے کو ندا لگائے۔ رہی حق کی نصرت، تو وہ ہر مومن پر لازم ہے، خواہ وہ اس کے قبیلے کا ہو یا نہ ہو۔
منافقین کی بد زبانی اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف ان کی جرأت۔
منافقوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر نبی ﷺ انتہائی تحمل اور صبر سے کام لیتے تھے۔
ہر اس عمل سے خبردار کیا گیا ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے متنفر کرے، اسی لیے نبی ﷺ نے منافقوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

