HadeethEnc · 1.36.0
’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
02
Explanation
حجۃ الوداع کے موقع پر دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں بھی اس میں سے عطا فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف بار بار دیکھنے لگے تاکہ ان کی حالت معلوم کریں کہ آیا ان کے لیے صدقہ حلال ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ دونوں تندرست اور توانا ہیں، اور فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں صدقے میں سے دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی ایسے شخص کا کوئی حصہ نہیں جس کے پاس اپنی ضرورت کے بقدر مال ہو، اور نہ ہی اس شخص کا جو کوشش کر کے مال کمانے پر قادر ہو، اگرچہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس کی بنا پر وہ امیر شمار ہوتا ہو۔“
03
Benefits
مالدار یا کمانے پر قادر طاقتور کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے۔
جس شخص کے مال کا علم نہ ہو، اس کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقیر اور صدقے کا مستحق ہے۔
صرف قوت وطاقت کا ہونا صدقے کا غیر مستحق ہونے کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ کمانے کی قدرت ہونا بھی ضروری ہے۔
جو شخص اپنی ضروریات کے بقدر کمانے پر قادر ہو، اس کے لیے فرض کردہ صدقہ (زکاۃ) لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کمانے کی وجہ سے (زکاۃ سے) بے نیاز ہے، جس طرح مال دار شخص مال کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
مسلمان شخص کی عزتِ نفس، اور لینے، سوال کرنے اور کاہلی کے بجائے نوازنے کی عظیم نبوی تربیت۔
جس شخص کے مال کا علم نہ ہو، اس کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقیر اور صدقے کا مستحق ہے۔
صرف قوت وطاقت کا ہونا صدقے کا غیر مستحق ہونے کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ کمانے کی قدرت ہونا بھی ضروری ہے۔
جو شخص اپنی ضروریات کے بقدر کمانے پر قادر ہو، اس کے لیے فرض کردہ صدقہ (زکاۃ) لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کمانے کی وجہ سے (زکاۃ سے) بے نیاز ہے، جس طرح مال دار شخص مال کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
مسلمان شخص کی عزتِ نفس، اور لینے، سوال کرنے اور کاہلی کے بجائے نوازنے کی عظیم نبوی تربیت۔
Attribution
[رواه أبو داود والنسائي]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

