HadeethEnc · 1.36.0
ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ہر اذان و اقامت کے درمیان نفل نماز ہے۔ اس جملے کو آپ نے تین بار دہرایا۔ تیسری بار آپ نے یہ اضافہ بھی فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے مستحب ہے، جو نماز پڑھنا چاہے۔
03
Benefits
اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا مستحب ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" یعنی دونوں چاند اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" یعنی دونوں عمر کہتے ہيں۔
اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" یعنی دونوں چاند اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" یعنی دونوں عمر کہتے ہيں۔
اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔
Attribution
[متفق عليه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

