”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے“ [التوبۃ: 19] آیت کے آخر تک۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا تو ایک شخص نے کہا: اگر میں اسلام قبول کرنے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی اور عمل نہ بھی کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسرے نے کہا: اگر میں اسلام قبول کرنے کے بعد مسجد حرام کی خدمت کرنے کے سوا کوئی اور عمل نہ بھی کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ پھر ایک اور شخص نے کہا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تمھاری ان باتوں سے افضل ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس اپنی آوازیں بلند مت کرو، اور یہ جمعہ کا دن تھا۔ لیکن جب میں جمعہ پڑھ لوں گا تو اندر جا کر آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھوں گا جس میں تم نے اختلاف کیا ہے۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے“ [التوبۃ: 19] آیت کے آخر تک۔
Explanation
"کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [التوبۃ: 19]
Benefits
اعمال کے درجات کا تعین شریعت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کے اجتہادات کے مطابق۔
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت، اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔
نووی کہتے ہیں: اس میں جمعہ اور دیگر دنوں میں مساجد میں آواز بلند کرنے کی کراہت کا بیان ہے، اور یہ کہ جب لوگ نماز کے لیے جمع ہوں تو علم یا کسی اور چیز کے لیے آواز بلند نہ کی جائے، کیونکہ اس سے نمازیوں اور ذکر کرنے والوں کو تشویش ہوتی ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

