”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“
Explanation
Benefits
لغو اور بے کار کے کاموں اور باتوں سے گریز کرنا انسان کے کامل مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔
یہاں انسان کو ایسے دینی ودنیوی کاموں میں مشغول رہنے کی ترغیب دی گئی ہے، جو اس سے سروکار رکھتے ہوں۔ کیوں کہ جب بنا سروکار کے کاموں سے دور رہنا اچھے مسلمان ہونے کی دلیل ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک اچھے مسلمان کو اپنے سروکار کے کاموں میں مشغول رہنا چاہیے۔
ابن قیم کہتے ہيں: اللہ کے نبی ﷺ نے «من حسن إسلام المرء: تركُه ما لا يعنيه» کہہ کر ورع کی تمام شکلوں کو یکجا کر دیا ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر بات کرنا، دیکھنا، سننا، پکڑنا، چلنا اور سوچنا وغیرہ تمام ظاہری و باطنی حرکات شامل ہيں، جو سروکار کی نہ ہوں۔ ورع کے سلسلے میں یہ ایک تشفی بخش جملہ ہے۔
ابن رجب کہتے ہيں: یہ حدیث ادب کے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس حدیث سے طلب علم کی ترغیب ملتی ہے، کیوں کہ علم کے ذریعے ہی انسان یہ جان سکتا ہے کہ کون سا کام اس کے سروکار کا ہے اور کون سا نہيں۔
بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور خیرخواہی کرنا انسان کے سروکار کے کاموں میں سے ہیں۔ کیوں کہ اسے ان کاموں کا حکم دیا گیا ہے۔
اس حدیث کے معنی کے عموم میں ان تمام بے سروکار کی چیزوں سے دور رہنا شامل ہے، جنھیں اللہ عز و جل نے حرام قرار دیا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے۔ اسی طرح غیبی حقائق اور خلق وامر کی تفصیلی حکمت جیسے اخروی امور بھی داخل ہيں، جن کی ایک مسلمان کو ضرورت نہيں ہوا کرتی۔ اس میں ایسے فرضی مسائل کے بارے میں بحث و تفتیش بھی شامل ہے، جو واقع نہ ہوئے ہوں، یا جن کے واقع ہونے کی امید نہ ہو یا پھر واقع ہونا محال ہو۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

