”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
Explanation
Benefits
نیک وصالح آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک ہونے پر بھروسہ کر کے عمل میں جد وجہد سے دست کش نہ ہو۔
کسی شخص کا حسبِ ضرورت اپنی فضیلت بیان کرنا جائز ہے، جب فخر اور تکبر کا خوف نہ ہو۔
عبادت میں اولیٰ میانہ روی اور ہمیشگی ہے، نہ کہ ایسی مبالغہ آمیزی جو ترک کا باعث بنے۔
ابن حجر کہتے ہیں: بندہ جب عبادت اور اس کے ثمرات میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو یہ اسے اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے پر مزید آمادہ کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نعمت باقی رہتی ہے اور اس پر شکر کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
شرعی حکم کی مخالفت پر غضہ ہونے کی مشروعیت، اور فہمِ معنی کے اہل ذہین وفطین شخص کے فہم میں کوتاہی کرنے پر اس کی نکیر کرنا، تاکہ اسے بیدار مغزی پر ابھارا جائے۔
اپنی امت پر نبی ﷺ کی شفقت، دین کی آسانی اور شریعت کی رواداری اور وسعت۔
صحابہ کرام عبادت میں شدید رغبت رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
شارع کی مقرر کردہ عزیمت اور رخصت کی حد پر ٹھہرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ شریعت کے موافق آسان ترین بات پر عمل کرنا، اس مشکل ترین کام سے اولیٰ ہے جو اس کے مخالف ہو۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

