HadeethEnc · 1.36.0
اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
سالم بن ابو جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو صحابہ نے ایک طرح سے ان کی بات کو برا جانا۔ لہذا اس نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"
02
Explanation
ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔
03
Benefits
نماز سے راحتِ قلب حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرنے کا ذریعہ ہے۔
عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔
عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔
Attribution
[رواه أبو داود]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

