لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
Explanation
یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔
یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔
سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
Benefits
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

