آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]
Explanation
چنانچہ یہ دونوں آیتیں اتریں اور اللہ تعالی نے بتایا کہ انسان چاہے جتنی تعداد میں جتنے بھی بڑے بڑے گناہ کر بیٹھے، سچے دل سے توبہ کرنے پر اللہ اس کی توبہ قبول ضرور کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو لوگ آگے بھی کفر اور سرکشی کے راستے پر چلتے رہتے اور اسلام قبول نہ کرتے۔
Benefits
اپنے بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت، مغفرت اور درگزر۔
شرک حرام ہے، کسی کا ناحق قتل حرام ہے، زنا حرام ہے اور ان گناہوں میں ملوث ہونے والوں کے لیے بڑی سخت وعید ہے۔
سچی توبہ، جو اخلاص اور عمل صالح سے جڑی ہوئی ہو، کفر سمیت تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہونا حرام ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

