تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ایسا متاثر کرنے والا وعظ فرمایا کہ ہمارے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ لہذا کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا وعظ فرمایا ہے، جو الوداعی وعظ معلوم ہوتا ہے۔ لہذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائیں۔ چنانچہ فرمایا : "تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا۔ اسے اپنے داڑھوں سے پکڑے رہنا۔ اور دیکھو، دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں سے دور رہنا۔ کیوں کہ ہر بدعت (دین کے نام پر سامنے آنے والی نئی چیز) گمراہی ہے۔"
Explanation
Benefits
پند و موعظت اور دلوں کو نرم کرنے پر توجہ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد مسند خلافت پر فائز ہونے والے چاروں صالح اور ہدایت یاب خلفا یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے اتباع کا حکم۔
دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے کی ممانعت اور اس بات کا اعلان کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے۔
مسلمانوں کی زمام حکومت سنبھالنے والے لوگوں کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دیں۔
ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا خوف رکھنے کی اہمیت۔
اس امت میں اختلافات سامنے آتے رہيں گے اور اس طرح کے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت کی جانب لوٹنا لازم ہوگا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

