افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#65007[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
02

Explanation

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے۔ بندوں پر اللہ کا حق یہ کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ جب کہ اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے ان موحد بندوں کو عذاب نہ دے، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ دے دوں، تاکہ وہ اس فضل وکرم کو جان کر خوش ہوسکیں؟ لیکن آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کردیا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس پر توکل کرکے بیٹھ نہ رہیں۔
03

Benefits

اللہ تعالی کے اس حق کی وضاحت جو اللہ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اللہ تعالی پر بندوں کے اس حق کی وضاحت، جو اللہ نے اپنے فضل و انعام کے طور پر اپنی ذات پر واجب کیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کرے اور عذاب سے محفوظ رکھے۔
اس حدیث میں ان موحد بندوں کے لیے بڑی عظیم بشارت ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے کہ ان کی جاے قرار جنت ہے۔
معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی موت سے قبل یہ حدیث اس خوف سے بیان کر دی کہ کہیں وہ کتمان علم کے جرم میں نہ مبتلا ہو جائیں۔
اس بات کی تنبیہ کہ کچھ احادیث کچھ لوگوں کے سامنے بیان نہ کی جائیں، اس خوف سے کہ کہیں وہ ان کے معانی کا ادراک نہ کر سکیں۔ لیکن یہ بات ان احادیث کے ساتھ خاص ہے جو نہ تو کسی عمل پر مشتمل ہیں اور نہ ان میں شریعت کی حدود بیان کی گئی ہیں۔
گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ماتحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو انہیں معاف کردے گا اور بالآخر جنت میں داخل کرے گا۔

Attribution

[متفق عليه]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...