HadeethEnc · 1.36.0
جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرے پھر حکم دے لیکن اجتہاد میں غلطی کر جائے تو بھی اسے ایک اجر ملے گا
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اور اگر حکم دینے کا ارادہ کرے اور صحیح حکم دینے کی پوری کوشش کرے، پھر ناکام ہو جائے تو اس کے لیے اکھرا اجر ہے"۔
02
Explanation
یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ کوئی حاکم جب کسی مسئلے پر اجتہاد کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور سمجھے کہ اس مسئلے میں یہی حق ہے، پھر فیصلہ دے دے، تو اب اگر اس کا فیصلہ صحیح، حق کے موافق ہوا اور اللہ کی منشا کے مطابق ہوا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجتہاد کرنے کا اجر اور دوسرا حق کے موافق فیصلہ کرنے کا اجر۔
لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔
لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

