HadeethEnc · 1.36.0
سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے ہوکر کہتے ہوئے سنا ہے:" {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} [سورہ الأنفال: 60] (تم ان کے مقابلے میں طاقت بھر قوت کی تیاری کرو), سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے"۔
02
Explanation
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت کی تفسیر بیان کی ہے، جسے دشمنوں اور کافروں کے مقابلے کی خاطر تیار رکھنے کا حکم دیا گيا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قوت سے مراد تیر اندازی ہے، کیونکہ یہ دشمن پر زیادہ کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی رکھتی ہے۔ حدیث میں "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے اور جس وقت یہ آیت اتری تھی، اس وقت میدان جنگ میں تیر چلائے جاتے تھے۔ لیکن اس آیت کا اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق قوت کا لفظ آيا ہے، تاکہ زمان و مکان کی قیود سے ماورا ساری قوتیں اس میں شامل ہو جائیں۔ اسی طرح حدیث کا بھی علمی اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے، جس میں پھینکنے اور چلانے کی ساری شکلیں شامل ہیں، چاہے وہ نئی سے نئی ہی کیوں نہ ہوں اور جدید سے جدید ہتھیاروں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں۔
Attribution
[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

