ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ ”انہوں نے اللہ کی ویسے قدر نہ کی جیسے قدر کرنے کا حق تھا“۔
Explanation
یہ بطریق وحی انبیا علیہم السلام سے ملنے والے علم میں سے ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے یہودی کے کلام کی تصدیق کی، بلکہ آپ ﷺ کو اس کی بات پسند آئی اور آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔ یہی وجہ ہے ک آپ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ یہ ایک طرح سے آپ ﷺ کی طرف سے اس کی بات کی تصدیق تھی، جیسا کہ ایک اور روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں“۔
اس آیت میں اللہ تعالی کے لیے دو ہاتھوں کا اثبات ہے۔ آپ ﷺ نے اسے یہودی نے جو بات کہی تھی، اس کی تاکید اور اثبات کے لیے تلاوت کیا۔ اس لیے اس سلسلے میں ان لوگوں کے قول کی طرف چنداں توجہ نہیں کی جائے گی جو مذہب تعطیل کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کے لیے انگلیوں کی صفت کی نفی کرتے ہیں، اس گمان میں کہ اللہ کے لیے انگلیوں کے اثبات کی وجہ سے اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ لازم آتی ہے۔ حالاںکہ یہ تعطیل کرنے والا شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی کے لیے اس صفت کے اثبات سے تشبیہہ لازم نہیں آتی۔ بالکل ایسے ہی، جیسے ہم اللہ تعالی کے لیے حیات، قدرت، قوت، سماعت اور بصارت جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے مخلوق سے مشابہہ ہے۔ کیوںکہ اللہ سبحانہ تعالی تو. ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ہے یعنی ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

