اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو ”لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر“ کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے، بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے“۔
Explanation
آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تدعون سميعاً بصيراً قريباً“ یہ اللہ تعالی کے لیے مبالغے کے صیغے ہیں کیونکہ اللہ تعالی میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں چنانچہ کوئی بھی جنبش چاہے وہ کتنی بھی مخفی ہو اس کی سماعت سے نہیں چوکتی۔ وہ رات کے اندھیرے میں چکنے سخت پتھر پر چلتی ہوئی چیونٹی کے رینگنے کی آواز کو بھی سنتا ہے بلکہ اس سے بھی مخفی آوازوں کو سنتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی آنکھوں کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری سُروں اور تہمارے سانس کی آوازوں اور ہر ان کلمات کو سنتا ہے جو تم بولتے ہو اور تمہاری حرکات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے پکارنے والے کے قریب ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوق سے آگاہ ہے اور ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے عرش پر ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے بالاتر ہے۔ اپنی تمام مخلوقات میں سے اس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
سمع و بصر اور قرب اللہ کی صفات ہیں جو اس کے لیے بلا تکییف و تمثیل اور بلا تحریف و تاویل اس انداز میں ثابت ہیں جو اس کی ذات کے شایانِ شان ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

