رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایسا تین دفعہ کہا کرتے تھے۔
Explanation
”پھر آپ ﷺ فرماتے“ یہاں ثم کا لفظ ترتیب اور تراخی پر دلالت کرتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے جس کا سونے کا ارادہ ہو۔ ایسا شخص پہلے اپنے داہنے پہلو پر لیٹے گا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھے گا پھر اس کے بعد دعا پڑھے گا۔ یہ شرط نہیں ہے کہ انسان لیٹنے کے فورا بعد یہ دعا کرے کیونکہ ”ثم“ کا لفظ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرتا رہے اور پھر اس کے بعد دعا پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ یعنی قیامت کے دن مجھے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ لفظ ”قنی“ میں اللہ کے فضل و احسان کی بدولت حفاظت کا معنی ہے یا یہ لفظ بندے کو ایسے فعل کی توفیق دینے پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور عذاب سے نجات مل جاتی ہے۔ کیونکہ اصل عموم ہی ہوتا ہے اور تخصیص کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی دلیل ہو اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ دونوں ہی معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ " عذابك "۔ یہ عذاب کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اس میں جہنم کا عذاب بدرجہ اول داخل ہے۔ تاہم اس دن کو اللہ نے القارعة، الصاخة، الطامة اور القیامۃ جیسے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ اور یہ بات اس کی ہولناکی اور سختی پر دلالت کرتی ہے چنانچہ مناسب یہ ہے کہ اللہ سے اس دن کے عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔
”عذابك“ اس میں نبی ﷺ نے عذاب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی تاکہ اس سے اس کی ہولناکی، شدت او عظمت کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح اس میں سپردگی کا معنی بھی ہے کیونکہ بندوں میں صرف اللہ ہی کا اختیارِ تصرف چلتا ہے اور اس عذاب پر اس غالب و مالک کا تصرف ہے۔ لفظ دونوں ہی معانی (عذاب کی سختی اورسپردگی) کو شامل ہے۔
اس لطیف مناسبت پر غور کریں جو نیند جو کہ موت کی بہن یا چھوٹی موت ہے اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے مابین ہے۔ حدیث میں شے (موت) اور اس کے تابع (بعث بعد الموت) کے مابین بہت ہی لطیف اور باریک قسم کی مناسبت کا بیان ہے اور یہ بات نبی ﷺ کے الفاظ کی عظمت و جمال کی دلیل ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

