میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
شکَل بن حمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔
Explanation
”أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي“ 'أعوذ' یعنی میں اللہ تعالی کے ذریعے سماعت کے شر سے اپنے آپ کو بچاتا ہوں۔ اس سے مراد وہ تمام حرام باتیں ہیں، جو انسان کے کان میں پڑتی ہیں، جیسے جھوٹی گواہی، کفر و بہتان پر مشتمل کلام اور دین کی تحقیر اور وہ ساری حرام باتیں جو انسان کی سماعت سے ٹکراتی ہیں۔
”وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي“ آنکھ کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان اسے حرام اشیا کو دیھکنے میں لگائے، جیسے حیا باختہ فلمیں اور برے مناظر۔
”وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي“ یعنی زبان سے نکلنے والی ہر حرام بات سے، جیسے جھوٹی گواہی، گالی گلوج، لعنت، دین اور دین دار لوگوں کی توہین و تحقیر، لایعنی باتوں میں لگنا اور سود مند باتوں کو چھوڑنا وغیرہ۔
”وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي“ دل کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان) دل کو اللہ کے ذکر کی بجائے دوسری اشیا سے آباد کرے یا پھر قلبی عبادات جیسے امید و بیم اور خوف و تعظیم کے ساتھ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا رخ کرے یا پھر رب تعالی کے حضور جن قلبی عبادات کا بجا لانا اس پر واجب ہو انھیں ادا نہ کرے۔ "ومن شر منيي": یعنی شرم گاہ کے شر سے۔ مراد یہ کہ کسی ایسی شے میں واقع ہونے سے (اللہ کی پناہ مانگنا) جسے اللہ نے اس کے لیے حرام کیا ہو یا (پھر معنی یہ ہیں کہ) مجھے زنا کے مقدمات جیسے دیکھنا، چھونا، اس کی طرف چل کر جانا اور ارادہ کرنا وغیرہ سے محفوظ رکھ۔
اس دعا میں اعضا کی حفاظت کا سوال ہے، جو کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ نبی ﷺ نے انھیں یہاں اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس نعمت کے شر سے پناہ مانگیں، نہ کہ خود اس نعمت سے، بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ میں اللہ سے اپنی سماعت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ یہ اعضا تو نعمتیں ہیں اور انہی کے ذریعے اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ کوئی شر محض نہیں کہ ان سے پناہ مانگی جائے، بلکہ پناہ تو ان سے جنم لینے والے شر سے مانگی جائے گی۔ (واضح رہے کہ) ان کی حفاظت اس طرح سے ہوتی ہے کہ ان امور کی رعایت کی جائے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان سے نہ کوئی معصیت کا کام کیا جائے اور نہ ان کے ذریعے سے کسی برائی کو فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ روز قیامت انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بمصداق کہ :﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے“۔ (سورہ بنی اسرائیل: 36)
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

