ہم نزولِ قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابل ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نزول قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے“۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابلِ ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔
Explanation
گویا کہ ان سے کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کے اس عمل کی خبر آپ ﷺ تک نہ پہنچی ہو؟ (اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔)
اس پر انہوں نے کہا کہ: اگر نبی ﷺ تک اس بات کی خبر نہیں پہنچی تو اللہ تبارک و تعالی تو اسے جانتا تھا۔ قرآن بھی نازل ہو رہا تھا۔ اگر یہ کوئی ممنوع عمل ہوتا تو قرآن اس سے منع کر دیتا اور اللہ تعالی ہمیں اس عمل کو جاری نہ رکھنے دیتا۔
نصوص کے مابین باہم موافقت کا طریقہ کار:
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث عزل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے تاہم ایسی احادیث بھی آئی ہیں جن سے عزل کے عدم جواز کا علم ہوتا ہے۔ مثلا صحیح مسلم میں جذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھیں۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے حکم کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو پوشیدہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ ان (بظاہر متعارض) نصوص کے مابین مطابقت کیسے پیدا کی جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ عزل کی اجازت ہے جیسا کہ جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث میں آیا ہے۔جب کہ جذامہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب عزل سے مقصد بچوں سے احتراز ہو۔ اسی معنی پر آپ ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ ”یہ تو پوشیدہ طورپر زندہ گاڑنا ہے“۔
یا پھر یہ کہا جائے گا کہ عزل کرنا مکروہ ہے نہ کہ حرام ۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

