HadeethEnc · 1.36.0
کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ کے کچھ صحابہ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے نبی ﷺ کی تنہائی کے معمول کے بارے میں پوچھا۔ (آپ ﷺ کی عبادت کا معمول سن کر) ان میں سے کسی نے کہا کہ میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (نبی ﷺ تک جب یہ بات پہنچی) تو آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔"
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ آپ کی بیویوں کے گھروں میں آئے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم گھر کے اندر کس طرح عبادت کرتے ہيں؟ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام کہاں اور ہم کہاں؟ آپ کے تو اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جسے معلوم نہ ہو کہ اسے بخشا جائے گا یا نہيں، اسے زیادہ سے زیادہ عبادت کی ضرورت ہے، تاکہ بخشش کا سامان ہو جائے۔ اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا کہ میں گوشت نہيں کھاؤں گا۔ جب کہ کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس کی اطلاع جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی، تو آپ نے ناراضگی ظاہر کی۔ لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تمھارے درمیان اللہ کى خشیت سے سب سے زیادہ متصف اور اس کا سب سے زیادہ تقوى رکھنے والا انسان ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سوتا ہوں، تاکہ پورے نشاط کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھ سکوں، روزے کے بغیر رہتا ہوں، تاکہ روزے کی طاقت حاصل کر سکوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا، کسی اور طریقے کو کامل طریقہ جانا اور میرے علاوہ کسى اور کى راہ کو اختیار کیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
03
Benefits
صحابہ رضی الله عنہم خیر کے کاموں سے محبت کرتے تھے، اس کی رغبت رکھتے تھے اور اپنے نبی صلى الله عليہ وسلم کى اقتدا کى چاہت ان کے اندر بھرى ہوئى تھى۔
اسلامی شریعت ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔ اس کی یہ خوبی اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل اور طریقے سے ظاہر وباہر ہے۔
خیر و برکت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا اور اتباع میں پنہاں ہے۔
اپنے نفس پر طاقت سے بڑھ کر عبادت کا بوجھ ڈالنے کی ممانعت اور یہ وضاحت کہ یہ اہل بدعت کی روش ہے۔
ابن حجر کہتے ہيں: عبادت میں شدت پسند رویہ اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے، جو عبادت سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ فرائض پر اکتفا اور نوافل سے احتراز سستی اور عبادت میں عدم نشاط کا سبب بنتا ہے۔ بہتر راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اکابر کے حالات، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، معلوم کیے جا سکتے ہيں۔ اگر مردوں سے معلوم کرنا دشوار ہو تو عورتوں سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے وعظ، علمی مسائل بیان کرنے، مکلفین کے آگے شرعی احکام بیان کرنے اور مجتہدین کے شبہات کو دور کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
عبادت، بطور خاص فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ اس میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کیے جا سکیں۔
یہ حدیث نکاح کی فضیلت اور اس کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔
اسلامی شریعت ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔ اس کی یہ خوبی اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل اور طریقے سے ظاہر وباہر ہے۔
خیر و برکت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا اور اتباع میں پنہاں ہے۔
اپنے نفس پر طاقت سے بڑھ کر عبادت کا بوجھ ڈالنے کی ممانعت اور یہ وضاحت کہ یہ اہل بدعت کی روش ہے۔
ابن حجر کہتے ہيں: عبادت میں شدت پسند رویہ اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے، جو عبادت سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ فرائض پر اکتفا اور نوافل سے احتراز سستی اور عبادت میں عدم نشاط کا سبب بنتا ہے۔ بہتر راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اکابر کے حالات، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، معلوم کیے جا سکتے ہيں۔ اگر مردوں سے معلوم کرنا دشوار ہو تو عورتوں سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے وعظ، علمی مسائل بیان کرنے، مکلفین کے آگے شرعی احکام بیان کرنے اور مجتہدین کے شبہات کو دور کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
عبادت، بطور خاص فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ اس میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کیے جا سکیں۔
یہ حدیث نکاح کی فضیلت اور اس کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔
Attribution
[متفق عليه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

