نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
Explanation
نبی ﷺ نے پناہ مانگتے ہوئے کہتے: ”اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوُذُ بِكَ مِنَ الْبرَصِ“ ’برص‘ سے مراد وہ سفیدی ہے جو بدن میں ظاہر ہوتی ہے اور اس سے لوگ انسان سے گھن کھانا لگتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جاتا ہے جو بسا اوقات ڈیپریشن (ذہنی دباؤ) کا سبب بن جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔
”وَالجُنُونِ“ اس کا معنی ہے عقل کا زائل ہو جانا۔ عقل ہی کی وجہ سے انسان مکلف ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء اور اس کے کلام عظیم میں غور و فکر کرتا ہے۔ عقل کا ختم ہو جانا گویا انسان ہی کا ختم ہوجانا ہے۔
”والجُذَامِ“ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے اعضاء جسم بوسیدہ ہو جاتے ہیں اور کٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
”وسّيءِ الأَسْقامِ“ یعنی بُرے امراض سے۔ اس سے مراد وہ جسمانی آفات ہیں جن کی وجہ سے انسان لوگوں کے مابین حقیر ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ طبعی طور پر اس سے دور رہنا شروع کر دیتے ہیں جیسے فالج، اندھا پن اور سرطان وغیرہ کیونکہ یہ بہت سخت قسم کے امراض ہیں جن کے علاج میں کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں نیز اُن کا سامنا کرنے کے لیے قوی ترین صبر ہونا چاہیے۔ انہیں صرف وہی برداشت کر پاتا ہے جسے اللہ تعالی صبر دے دے اور اس کا دل باندھ دے۔
اس دعا سے اُس دین کی عظمت عیاں ہوتی ہے جو مسلمان کے جسم اور دین دونوں ہی کا لحاظ رکھتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

