اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے“۔
ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے)۔
Explanation
آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، وہ چار چیزیں درج ذیل ہیں:
”مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ“ یعنی مصیبتوں کی سختی اور مشقت سے (اللہ کی پناہ) اس لیے کہ جب مصیبت سخت ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی مضبوط اور محکم تقدیر پر وہ اپنے آپ کو زد کوب سے نہیں بچا سکتا جس کی وجہ سے وہ دنیا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھاتا ہے۔
”وَدَرَكِ الشَّقَاءِ“ یعنی بدبختی کا لاحق ہونا۔ یہ عام ہے اس میں آخرت کی بدبختی ترجیحی بنیاد پر شامل ہے جس کے بعد سُکھ نہیں بخلافِ دنیا کی بدبختی کے کہ دن تو ادلتے بدلتے رہتے ہیں کہ کبھی کوئی دن آپ کی خوشی کا ہوگا اور دوسرا دن بدبختی کا۔
”وَسُوءِ الْقَضَاءِ“ یعنی جو مقدر میں ہو وہ ہوگا، جو انسان کو ناخوش حالات میں ڈال دے۔ یہ دنیا کے تمام امور کو عام ہے جیسے مال، اولاد، صحت اور بیوی وغیرہ۔ اسی طرح اُخروی امور کو بھی شامل ہے۔
یہاں پر قضاء سے مُراد حاصل شدہ امر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم سب کے سب خیر ہیں۔
”وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“ دُشمنوں کی ہنسی سے یعنی جس سے انسان متاثر ہوتا ہے جیسے دشمن کا تمہیں مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا، دینی دشمنوں کا اس حدیث میں داخل ہونا حقیقی ہے اور دنیا کے دشمنوں کا داخل ہونا ثانوی ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

