تمہارا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو وه تمہارے اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے بدلے ميں ہے اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو وہ (مال) تمہارے ليے اس عورت سے اور بھی زيادہ دور ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: فلان بن فلان نے كہا: اے اللہ کے رسول! یہ بتائیں کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کرتا ہوا پا لےتو اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر وہ کچھ بولے گا تو اس کا بولنا بہت بڑی بات ہو گی اور اگر چپ رہے گا تو اتنی ہی بری بات پر خاموش رہے گا؟
راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔
بعد ازاں وہ شخص دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے جو بات آپ سے پوچھی تھی میں خود اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اس پر اللہ عز و جل نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم...الخ﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں...مکمل آیت“ آپ ﷺ نے یہ آیات اس کے سامنے تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کیا اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ (اس لیے اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو تسلیم کرلو اور تہمت کی سزا برداشت کر لو)۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے اس پر بہتان نہیں لگایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور اسے نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ وہ کہنے لگی: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! یہ شخص جھوٹا ہے۔ آپ ﷺ نے مرد سے شروع کیا اور اس نے اللہ کی قسم اٹھا کر چار دفعہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اس نے کہا کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین جدائی کرا دی۔
پھرفرمایا: اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟ آپ ﷺ نے ایسا تین دفعہ فرمایا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: تمہارا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو وه تمہارے اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے بدلے ميں ہے اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو وہ (مال) تمہارے ليے اس عورت سے اور بھی زيادہ دور ہے۔
Explanation
بعدازاں اس سائل کو اپنی بیوی سے جس زنا کا اندیشہ تھا اسے اس نے دیکھ لیا تو اس کے حکم اور اس کی بیوی کے حکم کے بارے میں اللہ تعالی نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں“ (النور: 60)۔ نبی ﷺ نے ان آیات کو اس شخص پر تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کی کہ اگر وہ اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں جھوٹا ہے تو جان لے کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ قذف ہے -، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔
اس شخص نے قسم اٹھائی کہ اس نے اپنی بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگایا۔
پھر آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو بھی نصیحت فرمائی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ زنا یعنی رجم ہے - وہ آخرت کےعذاب سے ہلکا ہے۔
اس نے بھی قسم اٹھائی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے۔
اس پر نبی ﷺ نے دونوں میں سے اس سے ابتدا کی جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے یعنی شوہر سے۔ چنانچہ اس نے چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ اس نے اس عورت پر جو الزام لگایا ہے اس میں وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
پھر آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگروہ اپنے دعوے میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی کرا دی۔
چوں کہ ان میں سے ایک جھوٹا تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں توبہ کرنے کی پیش کش کی۔
شوہر نے اپنا حق مہر طلب کیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں حق مہر واپس نہیں ملے گا۔ اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ اس عورت نے زنا کیا ہے تو یہ حق مہر تمہارا اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے عوض ہو جائے گا کیونکہ وطی سے حق مہر ثابت ہو جاتا ہے۔
اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام دھرا ہے تو پھر حق مہر تمہاری دسترس سے اس عورت سے اور بھی زیادہ دور ہے کیونکہ تم نے اس پر یہ بہتان عظیم لگایا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

