HadeethEnc · 1.36.0
رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔
02
Explanation
خیبر کا شہر کاشتکاری کا شہر تھا، کچھ یہودی اس میں آباد تھے۔
جب آپ ﷺ نے سن سات (7) ہجری میں خیبر کو فتح کیا اور اس کی زمینیں اور کھیتیاں غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کردیں، مسلمان کھیتی باڑی اور زراعت کے بجائے اللہ کے راستے میں جہاد اور دعوت وتبلیغ میں مصروف تھے اور خیبر کے یہودی ایک طویل عرصے سے مشقت اٹھانے اور تجربے کی وجہ سے زراعت کے کاموں کو زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر کے گزشتہ مالکوں کو اسی زراعت اور درختوں کی دیکھ بال پر قائم رکھا، اس شرط پر کہ وہ اپنے کام کے عوض آدھے پھل اور کھیتی کی پیداوار میں سے آدھی پیداوار لیں گے اور دوسرا نصف حصہ اصل مالک ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو دیں گے۔
جب آپ ﷺ نے سن سات (7) ہجری میں خیبر کو فتح کیا اور اس کی زمینیں اور کھیتیاں غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کردیں، مسلمان کھیتی باڑی اور زراعت کے بجائے اللہ کے راستے میں جہاد اور دعوت وتبلیغ میں مصروف تھے اور خیبر کے یہودی ایک طویل عرصے سے مشقت اٹھانے اور تجربے کی وجہ سے زراعت کے کاموں کو زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر کے گزشتہ مالکوں کو اسی زراعت اور درختوں کی دیکھ بال پر قائم رکھا، اس شرط پر کہ وہ اپنے کام کے عوض آدھے پھل اور کھیتی کی پیداوار میں سے آدھی پیداوار لیں گے اور دوسرا نصف حصہ اصل مالک ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو دیں گے۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

