افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5919[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے، اور یہ کہکوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہکوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ لگائے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے۔ کوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائےکہ جو اس کے برتن میں ہے اُسے اپنے میں انڈیل لے (اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے)۔
02

Explanation

شریعت ہر اس چیز کو ختم کرنے پر زور دیتی ہے جو اسلامی معاشرے کے افراد کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ نص اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سامان کی قیمت بڑھانے سے منع فرمایا ہے، جس کے خریدنے کی نیتنہ ہو، بلکہ ارادہ قمیت بڑھا کر بیچنے والے کو فائدہ پہنـچانا ہو یا سامان مہنگا کرکے خریدار کو نقصان پہنچانا۔ آپ ﷺ نے اس سے اس لیے منع کیا کہ یہ جھوٹ، خریداروں کے حق میں دھوکہ اور مکر و فریب کے ذریعے سامان کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
اسی طرح آپ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا سامان بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ شہری قیمت کنٹرول کر لیتا ہے۔ اسے گھٹنے نہیں دیتا، جو خریداروں کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دے گا“۔ جب سامان کا مالک سامان بیچتا ہے، تو خریدنے والوں کو کچھ آسانی فراہم ہو جاتی ہے۔
مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجنا حرام ہے۔ جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے پیغام بھیجنے والے کا پیغام نامنظور ہو گیا ہے۔ دوسرے کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجنے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ دشمنی، بغض اور رزق کو روکنے کا سبب ہے۔
عورت کا اپنے شوہر سے سوکن کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا، اسے اس کے خلاف بھڑکانا یا ان کے درمیاں فتنہ پیدا کرنا؛ تاکہ ان کے درمیان ناچاقی پیدا ہو اور شوہر بیوی کو الگ کر دے۔ یہ سب حرام ہے۔ اس لیے کہ یہ بڑے بڑے مفاسد پیدا کرتا ہے، جیسے دشمنی، کینہ، مطلقہ کا رزق ختم کرنا_جسے اس کے برتن کی خیر کو اپنے برتن میں انڈیل لینے سے تعبیرکیاگیا ہے_ یعنی وہ رزق جس کا سبب نکاح ہے۔ اس کے علاوہ یہ طرزِ عمل نفقہ، کپڑے وغیرہ اور دوسرے حقوقِ زوجیت کو بھی ختم کرنے کا سبب ہے۔

Attribution

[متفق علیہ]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...