HadeethEnc · 1.36.0
”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
02
Explanation
نبی ﷺ میت کا ترکہ تقسیم کرنے والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ انہیں اس کے حق داروں میں منصفانہ طریقے سے اور شریعت کی روشنی میں اللہ کی منشا کے عین مطابق تقسیم کریں۔ چنانچہ وہ ورثا جن کے حصے اللہ کی کتاب کی رو سے معین ہیں، انہیں ان کے حصے دیے جائیں گے۔ وہ حصے یہ ہیں: دو تہائی، ایک تہائی، چھٹا حصہ، آدھا، چوتھائی اور آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسے میت کے قریبی مرد رشتہ داروں کو دے دیا جائے گا، جنہیں عصبہ کہا جاتاہے۔
03
Benefits
یہ حدیث ترکہ کی تقسیم کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
ترکہ کی تقسیم کا آغاز مقررہ حصے والوں سے ہوگا۔
مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کا حق ہے۔
اس میں بھی زیادہ قریبی رشتے دار کو مقدم رکھا جائے گا۔ کوئی دور کا رشتے دار جیسے چچا، قریبی رشتے دار جیسے باپ کے ہوتے ہوئے عصبہ کی حیثیت سے وارث نہيں بنے گا۔
جب مقررہ حصے والوں کو دینے کے بعد مال ختم ہو جائے اور کچھ نہ بچے، تو عصبہ کو کچھ نہيں ملے گا۔
ترکہ کی تقسیم کا آغاز مقررہ حصے والوں سے ہوگا۔
مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کا حق ہے۔
اس میں بھی زیادہ قریبی رشتے دار کو مقدم رکھا جائے گا۔ کوئی دور کا رشتے دار جیسے چچا، قریبی رشتے دار جیسے باپ کے ہوتے ہوئے عصبہ کی حیثیت سے وارث نہيں بنے گا۔
جب مقررہ حصے والوں کو دینے کے بعد مال ختم ہو جائے اور کچھ نہ بچے، تو عصبہ کو کچھ نہيں ملے گا۔
Attribution
[متفق عليه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

