HadeethEnc · 1.36.0
جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنا چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنی چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو“۔
مسلم شریف کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، تب سے کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت موجود نہ ہو۔
02
Explanation
یہ بات درست، ٹھیک اور تقاضائے احتیاط کے مطابق نہیں ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہواور جس کی وہ وضاحت کرنا چاہتا ہو کہ وہ اس میں لاپرواہی برتے، یہاں تک کہ لمبی مدت گزر جائے۔ بلکہ اسے چاہیےکہ وہ فورا اسے لکھ لے اور اسے واضح کر دے۔ زیادہ سے زیادہ مدت جس کی چھوٹ دی جا سکتی ہے، ایک یا دو راتیں ہیں۔
اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اس نبوی نصیحت کو سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی اور بیان حق کے لیس ہر رات اپنی وصیت کو خیال سے رکھا کرتے تھے۔ پھر وصیت کی دو قسمیں ہیں: اول: مستحب، یہ ایسی وصیت ہے، جو نفلی اور اللہ سےقریب کرنے والی چیزوں کے سلسلے میں کی جاۓ۔ دوم: واجب، یہ ایسی وصیت ہے، جو ایسے واجب حقوق کے سلسلے میں کی جاۓ، جن کے بارے میں اس کی وفات کے بعد کوئی دلیل نہ رہے۔ کیوں کہ "جس کام کے بغیر واجب کام پورا نہ ہو، وہ بھی واجب ہے"۔ اور ابن دقیق العید بیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واجب قسم پر ہی محمول ہے۔
اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اس نبوی نصیحت کو سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی اور بیان حق کے لیس ہر رات اپنی وصیت کو خیال سے رکھا کرتے تھے۔ پھر وصیت کی دو قسمیں ہیں: اول: مستحب، یہ ایسی وصیت ہے، جو نفلی اور اللہ سےقریب کرنے والی چیزوں کے سلسلے میں کی جاۓ۔ دوم: واجب، یہ ایسی وصیت ہے، جو ایسے واجب حقوق کے سلسلے میں کی جاۓ، جن کے بارے میں اس کی وفات کے بعد کوئی دلیل نہ رہے۔ کیوں کہ "جس کام کے بغیر واجب کام پورا نہ ہو، وہ بھی واجب ہے"۔ اور ابن دقیق العید بیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واجب قسم پر ہی محمول ہے۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

