HadeethEnc · 1.36.0
ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ عقل کو غائب کر دینے والی ہر چیز خمر اور نشہ آور شے ہے۔ خواہ کھانے کی چیز ہو، پینے کی چیز ہو، سونگھنے کی چیز ہو یا کچھ اور۔ ساتھ ہی یہ کہ نشہ لانے والی اور عقل کو غائب کرنے والی ہر چیز کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع کیا ہے۔ کم ہو یا زیادہ۔ جس نے کسی بھی نشہ آور شے کا استعمال پابندی سے کیا اور اس سے توبہ کیے بغیر دنیا سے رخصت ہوگیا، تو وہ اللہ کے اس عقاب کا مستحق ہوگیا کہ جنت میں اسے شراب پینے سے محروم رکھا جائے۔
03
Benefits
شراب کو حرام قرار دیے جانے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے۔ لہذا ہر نشہ آور شے حرام ہے۔
اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا، کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
جنت کے اندر شراب نوشی کمال لذت اور تمام نعمت کی دلیل ہوگی۔
جو دنیا میں خود کو شراب نوشی سے نہیں روکے گا، اللہ اسے جنت کی شراب سے محروم رکھے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل رہتا ہے۔
موت سے پہلے جلد از جلد گناہوں سے توبہ کر لینے کی ترغیب۔
اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا، کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
جنت کے اندر شراب نوشی کمال لذت اور تمام نعمت کی دلیل ہوگی۔
جو دنیا میں خود کو شراب نوشی سے نہیں روکے گا، اللہ اسے جنت کی شراب سے محروم رکھے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل رہتا ہے۔
موت سے پہلے جلد از جلد گناہوں سے توبہ کر لینے کی ترغیب۔
Attribution
[رواه مسلم وأخرج البخاري الجملة الأخيرة منه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

