اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے، کہتی ہیں:پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
فُرَیعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا (جو کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں) نے خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ ﷺ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیوں کہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کے پیچھے تلاش میں نکلے تو وہ سب مقام قدوم کے اطراف میں تھے کہ میرے شوہر نے ان کو جا لیا مگر انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیوں کہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (وہاں چلی جاؤ)“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺنے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: ” تم نے کیا کہا؟“ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ” اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلے سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

