HadeethEnc · 1.36.0
کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔
02
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!
Attribution
[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

