HadeethEnc · 1.36.0
اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اس کی مدت معین کر دی۔ چنانچہ جس شخص کا ایلاء چار ماہ سے کم ہوا وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اہل جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالی نے اس کی مدت معین کر دی۔ چنانچہ جس شخص کا ’ایلاء‘ چار ماہ سے کم ہوا وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔
02
Explanation
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اہلِ جاہلیت یعنی نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ اپنی بیویوں سے ایک سال یا دو سال کے لیے ’ایلاء‘ کیا کرتے تھے بالکل ایسے ہی جیسے وہ طلاقیں بھی تین سے زیادہ دیا کرتے تھے۔ پھر جوں ہی عدت ختم ہونے کے قریب آتی تو آدمی اپنی بیوی سے رجوع کر لیتا اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ ’ایلاء‘ بھی اسی طرح تھا اور اس سے عورتوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے لیے ایک معین مدت مقرر فرما دی یعنی چار ماہ جس میں آدمی ’ایلاء‘ کرنے والا سمجھا جائے گا ۔ جو شخص اس مدت سے زیادہ کے لیے ایلاء کرتا ہے وہ یا تو طلاق دے دے یا پھر اپنی بیوی سے رجوع کر لے اور جو چار ماہ سے کم کے لیے ایلاء کر تا ہے اس کا یہ ایلاء (شرعی) ایلاء نہیں ہو گا بلکہ یہ وہ ایلاء ہو گا جو شوہر اپنی بیوی کی تادیب اور اس کی اصلاح کے لیے کیا کرتا ہے اور اس کا وہ حکم نہیں ہوتا جو (شرعی و اصطلاحی) ایلاء کا ہوتا ہے۔
Attribution
[اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

