تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
Explanation
چھوٹا بچہ بڑا اور بالغ ہونے تک۔
فاقد العقل مجنوں دوبارہ عقل و شعور واپس آنے تک۔
سویا ہوا انسان جاگنے تک۔
یہ تینوں مکلف نہيں ہیں اور ان سے غلط کام ہو جائے تو ان کے کھاتے میں گناہ نہیں لکھا جاتا۔ البتہ چھوٹے بچے کے کھاتے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن مجنون اور سوئے ہوئے انسان کے کھاتے میں وہ بھی نہیں لکھی جاتی۔ کیوں کہ شعور نہ ہو نے کی وجہ سے دونوں اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی عبادت صحیح ہو۔
Benefits
ان تینوں کے کھاتے میں گناہ نہ لکھنے کا یہ مطلب نہيں ہے کہ کچھ دنیوی احکام ان پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر مجنون اگر کسی کا قتل کر دے، تو اسے قصاص کے طور پر قتل نہيں کیا جائے گا اور اسے کفارہ بھی نہیں دینا نہيں۔ البتہ اس کے خاندان کو دیت دینی ہوگی۔
بالغ ہونے کی تین علامتیں ہیں: منی کا احتلام وغیرہ کے ذریعے نکلنا، يا ناف کے نیچے بال اگ جانا یا پندرہ سال پورے ہو جانا۔ عورت کے اندر ایک چوتھی چيز بھی پائی جاتی ہے، اور وہ ہے حیض کا آنا۔
سبکی کہتے ہیں: حدیث میں آئے ہوئے 'صبی' لفظ کے معنی غلام (بچے) کے ہيں۔ جب کہ دیگرحضرات کہتے ہيں: بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہو، تو اسے (عربی میں) 'جنین' کہا جاتا ہے۔ جب پیدا ہو جائے، تو 'صبی' کہلاتا ہے۔ شیرخوارگی کا زمانہ گزرنے کے بعد سے سات سال تک 'غلام' کہلاتا ہے۔ بعد ازاں دس سال تک 'یافع' کہلاتا ہے۔ پھر پندرہ سال تک 'حزور' کہلاتا ہے۔ اور سیوطی کے بقول قطعی بات یہ ہے کہ بچے کو ان تمام احوال میں 'صبی' کہا جائے گا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

