افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#58148[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
02

Explanation

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ تین افراد کو چھوڑ کر تمام انسان مکلف ہیں۔ یہ تین افراد اس طرح ہیں:

چھوٹا بچہ بڑا اور بالغ ہونے تک۔

فاقد العقل مجنوں دوبارہ عقل و شعور واپس آنے تک۔

سویا ہوا انسان جاگنے تک۔

یہ تینوں مکلف نہيں ہیں اور ان سے غلط کام ہو جائے تو ان کے کھاتے میں گناہ نہیں لکھا جاتا۔ البتہ چھوٹے بچے کے کھاتے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن مجنون اور سوئے ہوئے انسان کے کھاتے میں وہ بھی نہیں لکھی جاتی۔ کیوں کہ شعور نہ ہو نے کی وجہ سے دونوں اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی عبادت صحیح ہو۔
03

Benefits

انسان اپنی اہلیت سے یا تو نیند کی وجہ سے محروم ہوتا ہے، جس کے سبب وہ واجبات کو ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے، یا کم سنی اور بچپنے کی وجہ سے، جس کے سبب اس کے اندر اہلیت موجود نہیں ہوتی، یا جنون کی وجہ سے، جس کے سبب عقل وشعور کام کرنا بند کردیتا ہے، یا اس کیفیت کی وجہ سے جو جنون کے حکم میں آتی ہے، جیسے حالت نشہ۔ چنانچہ جس شخص کے اندر تمیز اور تصور کرنے کی صحیح صلاحیت مفقود ہو، اس کے اندر مذکورہ تین میں سے کسی ایک سبب کی بنا پر اہلیت بھی مفقود ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص سے اللہ تعالی کے حق میں اگر کوئی زیادتی یا کوتاہی سرزد ہوجائے، تو اللہ تعالی اپنے عدل و انصاف، حلم و بردباری اور جود وسخا کی بنا پر اسے معاف کردیا ہے۔
ان تینوں کے کھاتے میں گناہ نہ لکھنے کا یہ مطلب نہيں ہے کہ کچھ دنیوی احکام ان پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر مجنون اگر کسی کا قتل کر دے، تو اسے قصاص کے طور پر قتل نہيں کیا جائے گا اور اسے کفارہ بھی نہیں دینا نہيں۔ البتہ اس کے خاندان کو دیت دینی ہوگی۔
بالغ ہونے کی تین علامتیں ہیں: منی کا احتلام وغیرہ کے ذریعے نکلنا، يا ناف کے نیچے بال اگ جانا یا پندرہ سال پورے ہو جانا۔ عورت کے اندر ایک چوتھی چيز بھی پائی جاتی ہے، اور وہ ہے حیض کا آنا۔
سبکی کہتے ہیں: حدیث میں آئے ہوئے 'صبی' لفظ کے معنی غلام (بچے) کے ہيں۔ جب کہ دیگرحضرات کہتے ہيں: بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہو، تو اسے (عربی میں) 'جنین' کہا جاتا ہے۔ جب پیدا ہو جائے، تو 'صبی' کہلاتا ہے۔ شیرخوارگی کا زمانہ گزرنے کے بعد سے سات سال تک 'غلام' کہلاتا ہے۔ بعد ازاں دس سال تک 'یافع' کہلاتا ہے۔ پھر پندرہ سال تک 'حزور' کہلاتا ہے۔ اور سیوطی کے بقول قطعی بات یہ ہے کہ بچے کو ان تمام احوال میں 'صبی' کہا جائے گا۔

Attribution

[رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...