HadeethEnc · 1.36.0
اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔"
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایک مسلمان کے دل میں آنے والے برے خیالات کی بنا پر اس وقت تک اس کا مواخذہ نہيں ہوگا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو بولا نہ جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے خیالات معاف ہيں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کے ذہن و دماغ میں گردش کرنے والے اور ان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو اس وقت تک قابل مواخذہ قرار نہيں دیا ہے، جب تک دل کے اندر بیٹھ نہ جائیں اور دل ان سے مطمئن نہ ہو جائے۔ ہاں جس کے دل میں تکبر، گھمنڈ اور نفاق وغیرہ برے خیالات بیٹھ جائيں اور جگہ بنالیں، یا جو اپنے اعضاء سے ان پر عمل کر لے یا زبان سے ان کا اظہار کر دے، تو پھر وہ قابل مواخذہ ہوگا۔
03
Benefits
اللہ تبارک وتعالی نے ان افکار و خیالات کو معاف کردیا ہے، جو دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی انسان اپنے دل میں ان کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے ذہن میں وہ خیالات گزرتے ہيں۔
اگر انسان کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے لیکن نہ وہ زبان سے بولے اور نہ قلم سے تحریر کرے تو اس کا اپنے دل میں طلاق کی بات کرنا اور اس بارے میں سوچنا طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔
دل سے گزرنے والے خیالات چاہے جتنے بڑے ہوں، اس وقت تک قابل مواخذہ نہيں ہیں، جب تک دل کے اندر جاگزیں نہ ہو جائيں اور انسان ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے ان کو نہ بولے۔
امت محمدیہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے دل میں آنے والے برے خیالات کی بازپرس نہيں ہوگی۔ جب کہ پہلے کی تمام امتوں سے باز پرس ہونی ہے۔
اگر انسان کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے لیکن نہ وہ زبان سے بولے اور نہ قلم سے تحریر کرے تو اس کا اپنے دل میں طلاق کی بات کرنا اور اس بارے میں سوچنا طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔
دل سے گزرنے والے خیالات چاہے جتنے بڑے ہوں، اس وقت تک قابل مواخذہ نہيں ہیں، جب تک دل کے اندر جاگزیں نہ ہو جائيں اور انسان ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے ان کو نہ بولے۔
امت محمدیہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے دل میں آنے والے برے خیالات کی بازپرس نہيں ہوگی۔ جب کہ پہلے کی تمام امتوں سے باز پرس ہونی ہے۔
Attribution
[متفق عليه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

