جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔
Explanation
Benefits
باری اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو انسان کے بس میں ہیں، ان کی تقسیم برابر کرنا ضروری ہے۔ رہی بات محبت اور قلبی میلان وغیرہ ایسی چیزوں کی، جو انسان کے بس میں نہيں ہوا کرتیں، تو وہ اس حدیث میں داخل نہيں ہیں۔ اسی طرح کی چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے: "تم چاہتے ہوئے بھی عورتوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے۔" [سورہ نساء : 129]
انسان کو اسی جنس کا بدلہ ملے گا جس جنس کا اس کا عمل ہوگا۔ چنانچہ جس طرح مرد دنیا میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہوگیا تھا، اسی طرح قیامت کے دن جب حاضر ہوگا تو اس کا جسم ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔
بندوں کے حقوق کی اہمیت۔ بندوں کے حقوق معاف نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ بندے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے ہيں۔
جب مرد کو یہ خدشہ ہوکہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر پائے گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تاکہ دین میں کوتاہی کا مرتکب نہ ہو۔ اللہ تعالی کافرمان ہے: "لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے"۔ [النساء: ۳]
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

