عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔تو انہوں نے کہا : میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
علقمہ اور اسود سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا، جس نے ایک عورت سے شادی تو کی، لیکن اس کا مہر متعین نہہیں کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابوعبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔ توانھوں نے کہا: میں اپنی عقل ورائے سے کہتا ہوں؛ اگردرست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ ”اسے مہر مثل دیا جائے گا؛ نہ کم اور نہ زیادہ۔ اسے میراث میں اس کا حق وحصہ دیا جائے گا اور اسے عدت بھی گزارنی ہو گی“۔ (یہ سن کر) اشجع (قبیلے) کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ہمارے یہاں کی ایک عورت بِرْوع بنت واشق کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔ اس عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا، وہ شخص اس کے پاس جانے سے پہلے انتقال کر گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مطابق اس کے مہر کا فیصلہ کیا اور (بتایا کہ) اسے میراث بھی ملے گی اور یہ عدت بھی گزارے گی۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور اللہ اکبر کہا۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

