میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور اس سے جدائى اختیار نہ کرو مگر گھر ہی کے اندر"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور اس سے جدائى اختیار نہ کرو مگر گھر ہی کے اندر"۔
Explanation
1- اسے چھوڑ کر خود نہ کھاؤ۔ جب جب کھاؤ، اسے بھی کھلاؤ۔
2- اسے چھوڑ کر خود نہ پہنو۔ جب خود پہنو، کماؤ اور استطاعت رکھو، تو اسے بھی پہناؤ۔
3- بلاسبب اور بلا ضرورت نہ مارو۔ تادیب کے لیے یا کوئی فریضہ ترک کرنے پر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے، لیکن وہ بھی اذیت ناک نہ ہو اور چہرے پر نہ مارا جائے۔ کیوں کہ چہرہ جسم کا عظیم ترین، سب سے زیادہ دِکھنے والا اور کئی معزز اور نازک اعضا پر مشتمل حصہ ہے۔
4۔ گالی گلوج مت کرو۔ یہ مت کہو کہ اللہ تیرے چہرے کو بد نما بنا دے۔ کوئی ایسی بد دعا نہ کرو، جس میں چہرے یا جسم کے کسی حصے کو بدنما بنانے کی بات ہو۔ کیوں کہ انسان کے جسم اور چہرے کو اللہ نے بنایا ہے اور بہتر شکل و صورت عطا کی ہے جبکہ بناوٹ کی مذمت بنانے والے (خالق) کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ
5- اس سے علاحدگی اختیار کرنا ضروری ہو، تو بس بستر الگ کر دو۔ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے گھر میں مت جاؤ اور نہ اسے دوسرے گھر میں بھیجو۔ کیوں کہ میاں بیوی کے درمیان ایسی لا تعلقی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے۔
Benefits
شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ بیوی کے نان و نفقے، کپڑے اور مکان کا انتظام کرے۔
معنوی اور حسی دونوں طرح سے بد صورت بنانا منع ہے۔
کسی سے یہ کہنا منع ہے کہ تم ایک گھٹیا قبیلے یا گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتے ہو یا اس جیسی کوئی اور بات۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

