HadeethEnc · 1.36.0
میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں رہو
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا صحرا اور جنگل میں رہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو، تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیوں کہ مؤذن کی آوازِ اذان کو جہاں تک کوئی انسان، جِن یا کوئی چیز سنے گی، قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی“۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔
02
Explanation
عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ روایت كرتے ہیں کہ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ک: ”میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کو محبوب رکھتے ہو“ 'بادیۃ' 'حاضرۃ' (شہر) کی ضد ہے، اس کی جمع 'بواد' ہے۔ لہٰذا جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے صحرا میں رہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو یعنی نماز کے لیے اذان دینے کا ارادہ کرو، تو بلند آواز سے اذان دو، کیوں کہ مؤذن کی آواز کے پہنچنے کی آخری حد تک جو بھی جن، انسان یا کوئی اور چیز اس آواز کو سنے گی۔ اس کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس جملے سے (کائنات کی) ہر چیز مراد ہے، جس کی گواہی دینا ممکن ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جمادات کو چھوڑ کر ہر سننے کی طاقت رکھنے والے حیوانات کے لیے عام ہے، خواہ وہ غیر عاقل ہی کیوں نہ ہو۔ ”تو وہ قیامت کے روز اس کی گواہی دے گی“ کہ وہ مؤذنین میں سے تھا؛ تاکہ اس کے فضل و مرتبے کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور اس کے اجر و ثواب کے بیان کا اظہار ہو۔
Attribution
[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

